دل کے ٹوٹنے پر

Published in:  on December 13, 2009 at 2:48 pm Leave a Comment

Electricity Could Be Generated FREE Forever

SOUND astonishing but this is POSSIBLE,

Now there are two ways to either with the flow of TRAFFIC or with the weight of TRAFFIC on roads and railway tracks, we should use this marvellous mechanism to generate the ELECTRICITY for Country.

With the flow of TRAFFIC means, with the rotation of the wheals of the TRAFFIC. Under the road bearings/rotators (those are installed at different locations of the road with keeping in eye the Continuous and Fluent Traffic Flow) should be rotated and with rotation of the those bearings/rotators the MAIN TURBINE should be activated to generate the ELECTRICITY.

As we know that in old days in some area still also, the headlight of the bicycle was lightened because of Dynamo attached with the Tire of the bicycle, the dynamo cap rotated with the flow of the bicycle tire, which makes the dynamo to produce electricity to lightened the headlight of the bicycle. This ideas was taken from that bicycle producing light.

So now we have two ways to generate the Electricity either by the rotation of Traffic Wheels flow or with the weight age of the TRAFFIC it means that at specific points of the main roads we will installed heavy duty SCALES (such we use to weight the big trucks or 22 wheeler trucks etc…under the main Road).

Such scales are specially made to weight upto 50000 Tons. Those scales will add weight automatically as any Vehicle passes on it, till the required weight figure is achieved. Lets say 40000 tons achieved then automatically Turbines attached with that Scale should be activated with the pressure and load of 40000 tons to produce the Electricity.

We should have such scales three to seven at one point, those works alternatively at their own turn to avoid stoppage or fluency of producing Electricity.

If we succeeded to arrange such mechanism then we won’t face any shortage of electricity in future and may SALE this technology to other Countries as well.
writen by shehzad shameem

Published in:  on April 23, 2009 at 4:40 pm Leave a Comment

حسن کی چاہت سے ملاقات

کھٹکے سے آنکھ کھلی
شاید دروازہ کھٹکا تھا
دروازہ کھولا تو
حسین چہرے کو منتظر پایا
اس کی شرمیلی نگاہیں
میرے وجود میں سما گئیں
بیتاب نگاہوں نے
مجھے بیتاب کر دیا
حسن کی چاہت سے
یہ پہلی ملاقات تھی
کسی نازک اندام سے
پیار کی بات ہوئی
اس کا پیار کچھ اس طرح
میرے وجود میں سمایا
وہ مجھ میں سما گئی
میں اس میں سما گیا

poet muhammad hafeez javed

Published in:  on April 20, 2009 at 5:40 am Leave a Comment

بھارت میں انتخابات اور بھارتی مسلمانوں کی نمائندگی

سیکولرازم کے نعرے کے ذریعے دنیا کو فریب دینے والے بھارت کا اصلی چہرہ
انتخابی دنگل میں مسلمانوں کو نمائندگی سے محروم رکھنے کی سازش
لوک سبھا انتخابات میں مسلم امیدواروں کی تعداد انتہائی محدود
بھارت کی کسی بھی سیاسی جماعت کو بھارتی پارلیمنٹ اور اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی منظور نہیں !
بھارتی خفیہ ایجنسی ”را “ کی ہدایت پر گزشتہ بیس برسوں سے بھارت کی تمام سیکولر جماعتیں ایک غیر تحریری دستور پر عمل کررہی ہیں
بھارتی سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو پارلیمنٹ میں نمائندگی سے دور رکھا جائے تاکہ مسلم مسائل پر کوئی آواز نہ اٹھائی جاسکے ۔
گزشتہ دو عشروں کے دوران بھارت میں ہونے والے ہر انتخاب میں مسلم امیدواروں کی تعداد کو کم سے کم کرکے غیر محسوس انداز میں بھارتی مسلمانوں کو نمائندگی کے حق سے محروم کیا جارہا ہے

ایک آرٹیکل ان کے لئے جو یہ سوچتے ہیں کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ کوئی امتیازی رویہ اختیار نہیں کیا جاتا اور بھارت میں موجود مسلمان چین و سکون میں ہیں

بھارت میں انتخابات کا زور شور ہے اور انتخابی گہما گہمی اس قدر عروج پر پہنچ چکی ہے کہ کوئی سیاسی جماعت مسلمانوں کو غدار قرار دے کر ہندو ووٹوں کے حصول کے لئے مسلمانوں کے گلے کاٹنے کا اعلان کررہی ہے تو کوئی مسلمانوں سے ہمدردی جتا کر ان کے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ مختلف سیاسی جماعتیں رائے دہندگان کو مختلف طریقوں ‘ نعروں ‘ وعدوں اور دعووں سے رجھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ مسلم دشمنی کے حوالے سے شہرت پانے اور بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے کے حوالے سے مشہور و معروف شیو سینا، بی جے پی اور اسی قبیل کی دیگر سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر بقیہ سیاسی جماعتیں اپنے سیکولر ہونے کا جس زور و شور سے ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں مذہب و مسلک کوئی اہمیت نہیں رکھتا جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے لئے سرکاری سرپرستی میں اقلیتوں کے ساتھ جو مظالم ڈھائے گئے اور آج بھی ہندو جنونی مسلمانوں کا قتل عام کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری سطح پر ان کا جس طرح سے استحصال کیا جارہا ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے ۔ جنتا دل (اے ٹو زیڈ)سے لے کر کانگریس تک ‘ حزب مخالف سے حزب اقتدار تک ہر بھارتی جماعت سیکولر ہونے کی دعویدار ہے اور یہ نام نہاد سیکولر جماعتیں ،مسلمانوں کو بار بار انتباہ دے رہی ہیں، ڈرا رہی ہیں خوف دکھلا رہی ہیں کہ وہ متحد ہو کر انہی کو ووٹ دیں۔ اور ہر سیکولر کہلانے والی سیاسی جماعتیں دوسری سیکولر جماعتوں پر فرقہ پرستی کا الزام عائد کررہی ہیں جبکہ جوابی الزامات کا سلسلہ بھی جارہی ہے جس کی وجہ سے بھارت کا عام مسلمان شش وپنج کا شکار ہے کہ وہ اس سیاسی جنگل میں کدھر جائے ۔ کل تک مسلمانوں کے خون کی پیاسی بھارت کی ساری سیاسی جماعتیں یکایک مسلمانوں کا دم بھرنے لگی ہیں۔ ان کے مسائل گنا رہی ہیں۔ ان پر کئے گئے کاغذی احسانات کی یاد دلا رہی ہیں۔ مسلمانوں کی بھلائی کی ترقی کی بہبود کی باتیں کہیں جارہی ہیں۔ لیکن کوئی سیاسی جماعت اور بالخصوص کوئی سیکولر جماعت یہ بتانے کے لئے تیار نہیں کہ وہ کتنے مسلمانوں کو پارلیمنٹ میں نمائندہ بنا کر بھیج رہی ہے۔ ساری سیکولر جماعتیں ایک غیر تحریری دستور پر عمل کررہی ہیں کہ مسلمانوں کی پارلیمنٹ و اسمبلی میں سے نمائندگی کو کم سے کم کیا جائے۔ تاکہ مسلمانوں کو دل خوش وعدوں کے ذریعہ آئندہ برسوں تک بہلایا جائے اور ان کے ووٹوں پر حکمرانی کی جائے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را “ کی ہدایت پر گزشتہ بیس برسوں سے بھارت کی تمام سیکولر جماعتیں ایک غیر تحریری دستور پر عمل کر رہی ہیں جس کی وجہ سے بھارتی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بھارت کے مسلمانوں نے ووٹ دینے سے پہلے کبھی اس پہلو پر سوچنا بھی گوارہ نہیں کیا کہ وہ جس سیکولر پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دے رہا ہے وہ ہندو ہے یا مسلم۔ مسلمانوں نے امیدوار کو کبھی فرقہ وارانہ طورپر نہیں دیکھا۔ وہ صرف سیکولر ازم کے جھانسے میں آ کر پارلیمنٹ اور اسمبلی میں اپنی نمائندگی کم کرتا چلا آرہا ہے۔ کیا یہ بات بھارت کے سیکولرازم کے منافقانہ اور ڈھونگ ہونے کا ثبوت نہیں کہ بھارت کی کسی بھی قومی علاقائی سیکولر جماعت کے مسلم امیدوار کو ہندو ووٹ نہیں ملتے جبکہ مسلمان اس رخ پر سوچنے کا تصور بھی نہیں کرتے۔ ستم کی بات یہ ہے کہ مسلم ووٹ کے ذریعے برسرِ اقتدار آنے والی سیاسی جماعتیں ہی بھارتی مسلمانوں کی وفاداری پر شبہات کے اظہار کے ساتھ ساتھ ان کا استحصال بھی کرتی ہیں اور انتہا پرست ہندو تنظیموں کو مسلمانوں کے قتل عام کی چھوٹ دے کر مسلمانوں کی نسل کشی میں اپنا غیرمرئی کردار بھی ادا کرتی ہیں جبکہ استحصال کا شکار مسلمانوں پر ہی یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ وہ وفادار نہیں ہوتے ہیں اور فرقہ پرستی کو ترجیح دیتے ہیں اگر واقعی بھارتی مسلمان بھارت سے وفادار نہیں ہوتے یا فرقہ پرستی کو ترجیح دیتے تو بھارتی پارلیمنٹ اور اسمبلی میں مسلم نمائندوں کی تعداد یقینی طور پر ان کی آبادی کے تناسب سے ہوتی یا پھر ہر ایک بھارتی سیاسی جماعتوں کو مسلم ووٹوں کے حصول کے لئے مسلم اکثریتی علاقوں سے مسلمان امیدوار کو ٹکٹ دینا پڑتا مگر ایسا نہیں ہے ۔

واضح رہے کہ بھارت کا ایک دانشور طبقہ اسی لیے سیاست میں مسلمانوں کے لئے تحفظات کا مطالبہ کررہا ہے کہ اس طرح پارلیمنٹ و اسمبلی میں ان کی نمائندگی ہوسکے۔ لیکن سیکولرازم کے تمام تر دعووں کے باوجود کانگریس، راشٹر وادی کانگریس، بہوجن سماج پارٹی، لوک جن شکتی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل جیسی جماعتیں مسلمانوں کو سیاسی تحفظات دیے جانے کے مطالبہ پر اندھی، بہری، گونگی ہوجاتی ہیں۔ تقریباً تمام سیاسی سیکولر جماعتوں کو مسلمانوں کے ووٹ درکار ہیں مگر کوئی بھی مسلمانوں کو نمائندگی کا حق دینے کے لئے تیار نہیں !

قارئین کو یہ جان کر دکھ اور تعجب بھی ہوگا کہ بھارت کی 41ویں پارلیمان میں مسلم ارکان پارلیمنٹ کی تعداد انتہائی قلیل ہے۔ یعنی صرف35ممبران پارلیمنٹ مسلمان ہیں۔ جب کہ بھارت میںمسلمانوں کی آبادی کے اعتبار سے پارلیمنٹ میں70مسلم ممبران پارلےمنٹ ہونے چاہئیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس کے لئے کون ذمہ دار ہے۔ کیا اس کے ذمہ دار مسلمان نہیں؟ کیا اس کے لئے وہ سیاسی جماعتیں ذمہ دار نہیں جن کو مسلمانوں سے ہمدردی کا دعویٰ ہے اور جو مسلم مفادات کے نگراں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مسلمانوں نے اس ملک میں کبھی اپنی اہمیت کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ انہیں اپنی حالت بدلنے کا خیال ہی نہیں آتا۔ اگر کبھی بھولے بھٹکے ایسا خیال آ بھی جائے تو نام نہاد مسلم قیادت کے منہ پر اس خوف سے تالے لگ جاتے ہیں کہ اگر ایسی کوئی بات کہہ دی جائے تو ان پر فرقہ پرستی کا الزام لگ جائے گا۔ فرقہ پرستی کی مخالفت تو سب کرتے ہیں لیکن اسی فرقہ پرستی پر سبھی سیکولر جماعتیں دل کی گہرائیوں سے عمل بھی کرتی ہیں۔ اگر ہماری بات جھوٹ ہے، الزام ہے بہتان ہے تو کوئی ہمیں بتائے کہ بھارتی پارلیمنٹ میں اور بھارت کی مختلف ریاستوں کی اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی تیزی سے کیوں گھٹ رہی ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ بھارت کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی اپنی کوششوں میں اس حد تک تو کامیاب ہوچکی ہے کہ اس نے بھارت کے ہر ہندو کی اس حد تک ذہن سازی ضرور کردی ہے کہ آج بھارت کا ہر ہندو خواہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو بھارت سے اقلیتوں کا وجود مٹا دینے کا خواہشمند ہے اور یہی خواہش انتخابات کے موقع پر اس وقت کھل کر سامنے آجاتی ہے جب بھارت کی ہر سیاسی جماعت مسلم ہمدردی کا دم بھر کر خود کو سیکولر ثابت کرنے کی کوشش تو ضرور کرتی ہے اور مسلمانوں کے ووٹ سے اقتدار میں آنے کی خواہشمند بھی ہوتی ہے مگر مسلمانوں کی نمائندگی کو مؤثر بنانے کے لئے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دینا کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے قابل قبول نہیں ہوتا ۔

کیا یہ المیہ نہیں کہ خود کو بھارت کی سب سے قدیم اور سب سے زیادہ سیکولر کہلانے والی پارٹی نے مہاراشٹر میں صرف ایک مسلم امیدوار کو میدان انتخاب میں اتارا ہے۔ جب کہ مہاراشٹر میں مسلمانوں کی آبادی کے اعتبار سے 3مسلم ممبران پارلیمنٹ منتخب ہوسکتے ہیں۔ ہم اسے اعداد و شمار کی روشنی میں بتلاتے ہیں کہ مہاراشٹر کی کل آباد 10کروڑ 39لاکھ 28ہزار 945 ہے۔ ان میں مسلمانوں کی تعداد 1,08,36,832ہے یعنی ایک کروڑ سے زائد اور ایک کروڑ مسلم آبادی والے مہاراشٹر سے صرف ایک مسلم ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوا ہے۔ جو عبدالرحمن انتولے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے مسلمان مہاراشٹر میں10اعشاری 45 فیصد ہیں اور اس فیصد کے لحاظ سے پارلیمنٹ میں مہاراشٹر کے 5مسلم ممبران پارلیمنٹ ہونے چاہئیں لیکن صرف ایک ممبر پارلیمنٹ ہے ، کیا یہ مہاراشٹر کے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہے۔
آندھرا پردیش میں مسلمانوں کی آبادی 48لاکھ21ہزار 51ہے۔ کل آبادی کا یہ10اعشاریہ 83 فیصد حصہ ہے۔ اس اعتبار سے آندھراپردیش سے 4مسلم ممبران پارلیمنٹ منتخب ہونے چاہئیں لیکن صرف2مسلمان آندھرا کے مسلمانوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتے ہیں۔ بھارت کی 6 ریاستیں ہیں جہاں سے کم ازکم ایک اور زیادہ سے زیادہ 2مسلم ممبران پارلیمنٹ منتخب ہونے چاہئیں لیکن ان 6ریاستوں سے کوئی مسلم پارلیمنٹ کا رکن نہیں ہے۔

مہاراشٹر میں پارلےمنٹ کی 84نشستیں ہیں ،یعنی مہاراشٹر سے84 ممبران پارلیمنٹ منتخب ہوتے ہیں۔ان میں صرف ایک مسلم ہے۔ جب کہ آبادی کے اعتبار سے پانچ مسلم ممبران پارلیمنٹ ہونے چاہئیں۔ مہاراشٹر میں سماجوادی پارٹی کا کوئی وجود نہیں ہے۔ بی ایس پی کی نمائندگی صفر ہے۔ جنتا دل آنجہانی ہوچکی ہے ، آرجے ڈی کائی اتا پتا نہیں ہے۔ لے دے کے دو پارٹیاں ہیں اور دونوں کو بھی سیکولرازم پر صدق دل سے عمل آوری کا دعویٰ ہے۔ان میں ایک کانگریس ہے تو دوسری راشٹروادی کانگریس پارٹی ہے۔ مہاراشٹر کے ایک کروڑ 8 لاکھ 23ہزار 238 مسلمانوں سے دونوں کانگریس پارٹیاں ووٹ طلب کررہی ہیں کہ ان دونوں سیاسی جماعتوں نے مہاراشٹر کی84 پارلیمانی نشستوں کو باہمی طور پر 22-62 کے اعتبار سے تقسیم کرلیا ہے۔ راشٹر وادی کانگریس پارٹی کو 22 پارلیمانی حلقوں میں کوئی مسلم قائد نہیں ملا جسے وہ پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے روانہ کرواتی۔ حالانکہ شردپوار کے لئے یہ بات ناممکنات میں سے نہیں کہ وہ اپنے کونے کی 22پارلیمانی نشستوں پر سے کسی ایک نشست پر مسلم امیدوار کو کامیاب بنائیں۔ شردپوار سیاست میں مرد آہن قرار دیئے جاتے ہیں۔ مہاراشٹر کے ایک بڑے علاقہ میں ان کا طوطی بولتا ہے۔ ان کے پارلیمانی حلقہ انتخاب بارہ متی میں ہی اگر کسی مسلمان کو شرد پوار امیدوار بناتے تو بارہ متی کے رائے دہندگان بہر صورت شردپوار کے نامزد مسلم امیدوار کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرواتے۔ تاہم شرد پوار کو مسلمانوں سے ظاہری ہمدردی ہونے کی وجہ سے انہوں نے بارہ متی کی سیٹ اپنی دختر کے لئے چھوڑ دی اور خود نئے پارلیمانی حلقہ ماڈھا سے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ کیا راشٹروادی کانگریس پارٹی میں کوئی ایسا قد آور مسلم لیڈر نہیں ہے جو پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرسکے۔ بالفرض ایسا کوئی قائد این سی پی میں نہیں تھا تو شرد پوار اپنے رفیق آل انڈیا مسلم اوبی سی آرگنائزیشن کے قومی صدر شبیر احمد انصاری کو ہی بارہ متی سے امیدوار بناتے اور شردپوار چاہتے تو شبیر انصاری ریکارڈ اکثریت سے پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوتے۔ اس کے باوجود شرد پوار نے کسی مسلم امیدوار کو انتخابی میدان میں اتارنا پسند نہیں کیا۔ تو کیا اس سے این سی پی اور شرد پوار کے سیکولر ہونے کے ڈھونگ کا پردہ فاش نہیں ہوتا ۔ یہی صورت حال کانگریس کے تعلق سے کہی جاسکتی ہے کہ کانگریس تو سیکولرازم کی سب سے بڑی دعویدار ہے۔ مسلمانوں سے اس کی ہمدردی کی باتیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ سچر کمیٹی کی رپورٹ پر آٹھ آٹھ آنسو بہانے والی کانگریس کو دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی واحد سیاسی پارٹی ہے جو مسلمانوں کے مفادات کی نگراں ہے اور ان کی بھلائی چاہتی ہے۔ مسلمانوں سے اظہار یگانگت کا کوئی موقع کانگریس ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ تاہم پارلیمنٹ اور اسمبلی میں مسلمانوں کی موجودگی کانگریس کو بھی پسند نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ مسلمان پارلیمنٹ اور اسمبلی میں پہنچیں۔ ہم سارے بھارت کی بات نہیں کریں گے صرف مہاراشٹر کی بات کریں گے۔ جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ مسلمان مہاراشٹر کی کل آبادی کا 10.53 فیصد ہیں اور اس اعتبار سے مہاراشٹر سے 5 مسلم ممبران پارلیمنٹ کسی بھی صورت میں منتخب ہونے چاہئیں۔ کانگریس، این سی پی نے مہاراشٹر کی 84نشستوں کے لئے اتحاد کیا ہے۔ کانگریس کے حصہ میں 62نشستیں آئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان 62 نشستوں میں سے کانگریس 3 نشستیں مسلمانوں کے لئے مختص نہیں کرسکتی تھیں۔ بالکل کرسکتی تھی کیونکہ کانگریس ریاست کے ایک کروڑ سے زیادہ مسلمانوں کو نظرانداز نہیں کرسکتی ۔ لیکن 62 نشستوں کے امیدواروں پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ کانگریس نے مسلمانوں کو نظرانداز کیا اور بری طرح نظرانداز کیا۔ کانگریس نے شرڈی پارلیمانی حلقہ رام داس آٹھولے کے لئے چھوڑ دیا۔ کیا کانگریس ایسے ہی مہاراشٹر کے تین پارلیمانی حلقے مسلمانوں کے لئے نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ ایسے حلقوں کی تلاش کانگریس کے لئے مشکل بھی نہ تھی۔ ناسک، ممبئی کا کوئی ایک حلقہ اور اورنگ آباد سے کانگریس مسلم امیدوار کو پوری طاقت سے کامیاب کرواسکتی تھی۔ لیکن اس کی فہرست میں صرف واحد نام عبدالرحمن انتولے کا ہے۔ اس تفصیلی جائزہ سے یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ کانگریس ہویا راشٹروادی کانگریس یا سیکولرازم کا دم بھرنے والی کوئی اور بھارتی سیاسی جماعت انہیں بھارتی پارلیمنٹ اوراسمبلی میں مسلمان اور ان کی نمائندگی منظور نہیں البتہ انہیں مسلم ووٹ ضرور درکار ہیں ‘ وہ یہ نہیں چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کے نمائندے پارلیمنٹ کے ایوانوں میں پہنچیں اور مسلم مسائل پر آواز اٹھائیں۔ دونوں جماعتیں خود کو سیکولر کہلاتی ہیں اور جب سیکولرازم کے عملی مظاہرہ کا وقت آتا ہے تب ان کو ڈرایا جاتا ہے دھمکایا جاتا ہے، خوف دلایا جاتا ہے، فرقہ پرست جماعتوں سے فرقہ پرست قائدین سے۔ کہ کانگریس کو منتخب نہیں کیا گیا تو ”گجرات“ بنیں گے۔ زیرنظر آرٹیکل جذباتی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ غیر جانبدارانہ طریقہ سے ان کے لئے قلم بند کیا گیا ہے جو یہ سوچتے ہیں کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ کوئی امتیازی رویہ اختیار نہیں کیا جارہا ہے۔

Published in:  on April 17, 2009 at 5:29 am Leave a Comment

imran khan in nowshera

[gallery]
Published in:  on April 9, 2009 at 4:29 pm Leave a Comment

ئی ایس آئی کے خلاف نئی امریکی سازش

افغانستان میں امریکی اور نیٹو فورسز کی ناکامی کی اہم ترین وجہ پختون عوام کو ساتھ ملا کر سیاسی عمل کو پروان چڑھانے کے بجائے طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال اور افغان عوام پر ایسے کرپٹ اور ظالم وار لارڈز مسلط کرنے کی پالیسی ہے جن سے لوگ نفرت کرتے ہیں ویسے بھی افغان عوام نے سکندراعظم سے لے کر برزنیف تک کسی غیر ملکی تسلط کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ برطانیہ و سوویت یونین کی طرح امریکہ کو بھی اپنے ملک سے نکالنے کے لئے جان و مال کی قربانی دے رہے ہیں مگر امریکہ اپنی اس ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کے قبائلی عوام سوویت یونین کے خلاف جہاد کرنے والے پرانے امریکی اتحادی طالبان اور دیگر جہادیوں کے علاوہ پاکستان کے حساس اداروں بالخصوص آئی ایس آئی کو قرار دے کر حالات کو مزید خراب کر رہا ہے۔ حال ہی میں ایک امریکی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پٹریاس نے پاکستانی انٹیلی جنس اداروں پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ” پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کے بعض عناصر اور طالبان میں تعلقات ہیں جن کو ہم جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ آئی ایس آئی ہو فوج یا کوئی دوسرا ادارہ عوام اپنے خون پسینے کی کمائی سے اسے وسائل فراہم کرتے ہیں اور دفاع وطن کے فرض کی بطریق احسن ادائیگی کی توقع رکھتے ہیں لیکن امریکی عہدیداروں کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ ان اداروں سے وابستہ پاکستان کے قومی مفادات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جب ان کی طرف سے اپنے حلف٬ ضمیر اور ایمان کے مطابق جذبہ حب الوطنی کا مظاہرہ ہوتا ہے تو امریکیوں کی طرف سے منفی پراپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے کہ یہ ادارے طالبان یا دیگر ایسے عناصر کے ساتھ رابطوں میں ہیں جنہیں امریکہ دشمنی کا اعزاز حاصل ہے٬ پہلے جو بات امریکی ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینک کہتے تھے اور پاکستان کے محب وطن حلقے اسے امریکی عزائم کا آئینہ دار قرار دیتے تھے اب رابرٹ گیٹس٬ ایڈمرل مولن اور جنرل پٹریاس کہہ رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اوبامہ انتظامیہ کا اصل ہدف افغانستان یا پاکستان میں مبینہ طور پر موجود القاعدہ و طالبان نہیں بلکہ نیوکلیئر اسلامی پاکستان اور اس کے دفاعی ادارے ہیں٬ امریکہ انتہا پسندی٬ دہشت گردی اور القاعدہ و طالبان کے خلاف پراپیگنڈے کے ذریعے ہماری دفاعی لائن کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور حالیہ دنوں میں اوبامہ انتظامیہ کے بیشتر ارکان نے اپنے عزائم ڈھکے چھپے نہیں رہنے دئیے۔ان حالات میں صرف حکومت ہی نہیں تمام قومی اداروں اور طبقات کا فرض ہے کہ وہ اپنے دفاعی اداروں کے تحفظ کے لئے یک جان و دو قالب ہو کر کام کریں حکومت پاکستان کا فرض ہے کہ وہ امریکہ سے کھل کر بات کرے اور اپنے قومی اداروں کے خلاف منفی پراپیگنڈا بند کرے کیونکہ اس پراپیگنڈے سے ہمارے قومی وقار کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ امریکہ پر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ہم پر نہ ڈالے اور اپنی جنگ خود لڑے یہ توقع ہرگز نہ رکھی جائے کہ آپ کی سی آئی اے تو ”را“ اور ”موساد“ سے مل کر پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچاتی رہے اور ہمارے ادارے خاموشی سے تماشہ دیکھتے رہیں۔ ان کا کام پاکستان کی حفاظت ہے امریکی مفادات کی تکمیل نہیں۔ یہ ادارے بالخصوص آئی ایس آئی چونکہ بھارت اور اسرائیلی عزائم کی روک تھام میں مصروف ہیں اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو دشمنوں کی نظرِبد سے محفوظ رکھنے کے لئے شاندار کردار ادا کر چکے ہیں اس لئے امریکہ نے انہیں ٹارگٹ کر لیا ہے وہ ڈیڑھ ارب ڈالر امداد دے کر ہماری پہلی دفاعی لائن کو کمزور کرنا چاہتا ہے مگر پاکستانی عوام یہ ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔

Published in:  on April 7, 2009 at 4:42 pm Leave a Comment

خودکش بمبار کا پتہ چلانے والا کیمرہ

  • یہ ایک تھرمل کیمرہ ہے، اس میں یہ ٹیکنالوجی ہے کہ اس کی مدد سے ہم ایک خاص رینج میں موجود لوگوں کے جسم کے درجہ حرارت کی پیمائش کرسکتے ہیں اور اگر ہمیں کسی کے جسم میں کوئی اسپاٹنگ نظر آتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص مشکوک ہے اور ہم اس کو کسی بھی طریقے سے پکڑ سکتے ہیں۔‘ اس تھرمل کیمرہ کی قیمت اس کی قوت کے لحاظ سے ہوتی ہے، مثلاً کوئی کیمرہ دس کلومیٹر کی رینج تک کام کرسکتا ہے تو کوئی بیس کلومیٹر تک اور اس کی قیمت سوا دو لاکھ سے چھ سات لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔

Published in:  on April 5, 2009 at 10:11 am Leave a Comment

اور خواب پورے ہوگئے – کیا واقعی۔

جناب نذیر ناجی صاحب کا ایک اور کالم پڑھا اور سوچا کہ آپ لوگوں سے شئیر کرتا چلوں۔ فرماتے ہیں۔ میڈیا اور اپوزیشن کی نظر سے دیکھا جائے تو منتخب حکومت کی پہلی سالگرہ پر پاکستان کے لئے صرف ایک خوشخبری ہے اور وہ ہے چیف جسٹس آف پاکستان کی بحالی۔ جس پر ہر طرف فتح کے شادیانے بجائے جارہے ہیں۔ کامیابی ایک ہے۔ سہرے باندھ کر سلامیاں وصول کرنے والے دولہا کئی ہیں۔ میڈیا ہے۔ (ن) لیگ ہے۔ عمران خان ہیں۔ وکلا ہیں۔ جماعت اسلامی ہے۔ پیپلز پارٹی ہے۔ مظاہروں میں شریک مولانا فضل الرحمٰن بھی ہوتے رہے۔ مگر وہ سہرا باندھنے سے کترا رہے ہیں۔ مولانا بہت گہرے اور تہہ دار سیاست دان ہیں۔ سہرا باندھنے سے ان کے گریز میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہے اور جب میں نے یہ پڑھا کہ اصل دولہا چودھری اعتزاز احسن کامیابی کی تقریبان کے دوران ہی وکلا کی سیاست سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ تو مولانا فضل الرحمٰن کے گریز پر زیادہ توجہ مرکوز ہوگئی۔ کچھ نہ کچھ ہے ضرور۔ اللہ کرے وہ خیر کی صورت میں ہو۔ میں کھلا اعتراف کرتا ہوں کہ ایک فرد کی بحالی کے لئے چلنے والی تحریک کو میں نے کبھی عدلیہ کی بحالی کی تحریک نہیں سمجھا۔ میں نے ہمیشہ لکھا کہ انصاف ہمیشہ حکومتیں فراہم کرتی ہیں۔ اگر حکومتیں اچھی نہیں تو عدلیہ از خود انصاف فراہم کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اور مزید فرماتے ہیں کہ جہاں تک موجودہ چیف جسٹس کی بحالی کا تعلق ہے۔ اس کا سہرا جتنے دولہا چاہیں اپنے سر باندھیں۔ حقیقت صرف ایک ہے کہ نواز شریف نے لانگ مارچ شروع کر کے حکومت کو چیف جسٹس کی بحالی پر مجبور کیا۔ ورنہ دو سال سے چلنے والی مختلف سماجی طاقتوں کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکی۔ اصل سہرے کے حقدار صرف نواز شریف ہیں۔ وہ یہ زمہ داری سیاسی ضروریات کے تحت اپنے سر لے چکے تھے۔ اب سرخرو ہو چکے ہیں۔ لیکن وکلا کے باقی مطالبات کی زمہ داری اٹھانے سے اب وہ کترائیں گے۔ ان کے سامنے اپنی سیاسی ضروریات ہیں۔ عدلیہ کی بھالی کے نتیجے میں انہیں کوئی فائدہ ہوا تو ٹھیک ہے۔ مگر فائدہ ہونے یا نہ ہونے سے قطع نظر۔ اب وہ باقی مطالبات کے چکر میں نہیں پڑیں گے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جیسے ہی حکومت کی طرف سے چیف جسٹس کی بحالی کا پیغام ملا۔ انہوں نے مزید کوئی تفصیل پوچھے بغیر لانگ مارچ کال آٍ کردیا۔ نو آموز سیاسی کھلاڑی کمانڈو کی طرح زیر زمین ہو کر سہرا اور ہار پہننے اسلام آباد میں لانگ مارچ کے منتظر رہے لیکن۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدی تحریک کے دوران چیف جسٹس کی بحالی کی اہمیت اجاگر کرنے لے لئے عوام کو جو خواب دکھائے گئے، ان کی چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔ دہشت گردی کی ہر واردات پر بیان آتا تھا کہ “اگر عدلیہ موجود ہوتی تو بم دھماکے نہ ہوتے، لوڈ شیڈنگ پر کہا جاتا۔ چیف جسٹس بحال ہوتے تو لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی۔ بیروزگاری کی وجہ صرف اصل عدلیہ کی عدم موجودگی ہے۔ چیف جسٹس کی بحالی کے بغیر کرپشن ختم نہیں ہو سکتی۔ پاکستان میں حقیقی عدلیہ موجود ہوتی تو بھارت ہمارے حصے کا پانی بند نہیں کر سکتا تھا“ میرے پاس ریکارڈ نہیں۔ ورنہ زرا سی محنت سے ایسے ایسے بیانات بھی نکالے جا سکتے ہیں۔ جن میں بیرونی قرضوں سے لے کر خارجہ پالیسی کے امور تک ہر مسئلے کا ایک حل بتایا جاتا تھا اور وہ یہ کہ چیف جسٹس بحال ہو گئے ۔ تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ خوش قسمتی سے بحال ہو چکے ہیں۔ امید ہے اب مسائل حل ہونے کا سلسلہ شروع ہو جائے گار۔ مگر کیسے؟ اپنے منصب پر واپسی کے پہلے ہی دن چیف جسٹس کے سامنے جو درخواستیں آنا شروع ہوئی ہیں۔ ان کا تعلق عدلی میں اکھار پچھاڑ سے ہے۔ مزید آگے لکھتے ہیں عدلیہ کی عالمی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی چیف جسٹس کے گھر پر سیاسی کارکنوں نے اپنی جماعتوں کے پرچم لہراتے ہوئے عدلیہ کا پرچم بلند کیا۔ جن جماعتوں کے پرچم اور کارکن اس تقریب میں نہیں تھے، وہ انصاف کی کتنی امید رکھ سکتے ہیں؟ ہر مقدمے میں دہ یا ان سے زیادہ فریق ہوتے ہیں۔ اگر کوئی فریق نہیں ہوتا تو صرف عدلیہ نہیں ہوتی۔ کیا اب بھی وہی صورتحال ہوگی ؟ سوال پر سوال چلا آرہا ہے۔ کہاں تک درج کروں؟ حقیقی عدلیہ نے کام شروع کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کی بحالی کی تحریک چلانے والوں نے جو وعدے کیے تھے، وہ پورے ہو جائیں۔ پہلے ہم سیاسی جماعتوں کو افراد کے نام سے جانتے تھے۔ مسلم لیگ کا تو نام ہی نواز لیگ ہے۔ (ق) لیگ چودھری شجاعت حسین۔ پیپلز پارٹی آصف زرداری۔ ایک جے یو آئی کا نام فضل الرحمٰن ہے۔ دوسری کا نام مولانا سمیع الحق ہے۔ جماعت اسلامی کا نام قاضی حسین احمد ہے۔ تحریک انصاف کا نام عمران خان ہے۔ فوج کا نام اس کے سربراہ کا نام ہوتا ہے۔ کل اس کا نام پرویز مشرف تھا۔ آج اس کا نام اشفاق پرویز کیانی ہے۔ ایک عدلیہ کا ادارہ باقی تھا۔ اب اس کا نام بھی ایک فرد کے نام پر ہو گیا ہے۔ دنیا کہتے ہے ہم ادارے قائم کریں اور ہم ہیں کہ رہے سہے اداروں کو بھی افراد کی ذات میں سمیٹ رہے ہیں۔ تو جناب یہ کالم بھی خوب ہی لکھا ہے جناب نذیر ناجی صاحب نے اور دیکھتے ہیں کتنے صاحب علم اپنی اپنی تشریح پیش کرتے ہیں اپنے سابقہ عدلیہ بحالی موقف پر۔ آج ایک ٹی وی تازہ ترین کے مطابق آٹے کی فی کلو گرام قیمت میں پانچ سے چھ روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے یعنی دس سیر آٹے کی بوری پر پچاس سے ساٹھ روپے کا اضافہ۔ جئے جمہوریت اور جئے آزاد عدلیہ – آٹا زیادہ سستا نہیں کرواسکتے تو کم از کم آمریت کے ریٹ یعنی پچیس روپے فی سیر ہی دلوا دو اور جو چینی آمریت کے دور میں تیس روپے میں فی سیر میسر تھی وہ زرا اپنے دکانداروں سے پوچھو کہ کتنے روپے فی سیر ہے۔ میری کوشش تھی کہ اپنے طور پر زیادہ کوئی بات نہیں کروں گا مگر دل دکھتا ہے تو آواز تو نکل ہی آتی ہے۔ اور آج کے اخبار کے مطابق امریکی حملے میں آٹھ افراد اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے دیکھتے ہیں آزاد عدلیہ کب اپنے ملک کے بے گناہ عوام کے خون سے ہولی کھلینے والوں کو اپنی عدالت میں طلب کرتی اور ان کو ان کے گھناؤنے حملوں پر سزا سناتی ہے۔

Published in:  on March 27, 2009 at 4:37 pm Leave a Comment

ہندو طالبان – بھارت کا وجود خطرے میں

24 جنوری 2009 کو کرناٹک صوبے کے ایک اہم شہر اور بھارت کے آئی ٹی سینٹر مینگلور (سابقہ بنگلور) میں ایک انتہا پسند ہندو تنظیم شری رام سینا (رام جی کی فوج) کے جوانوں نے ایک ہوٹل پر حملہ کردیا۔ اس ہوٹل میں موجود لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ ان کے کپڑے پھاڑ دئیے۔ ان کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی گئی۔ وہاں موجود لڑکوں کو زدوکوب کیا گیا۔ ان حملہ آور انتہا پسند ہندو نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ حملہ اس لیے کیا کہ ہوٹل میں غیراخلاقی کام ہوتے ہیں۔ یہاں لڑکے اور لڑکیاں شراب نوشی اور ڈانس کرتے ہیں۔ یہ تمام باتیں ہندو مذہب اور ہندو تہذیب کے خلاف ہیں۔ اس لیے ہم کسی کو بھی اس طرح کے غیراخلاقی کام کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہمارے ہوتے ہوئے کوئی ایسے کام نہیں کرسکتا۔


تمام انتہا پسند ہندو تنظیموں نے لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی اور انہیں ہراساں کرنے کے مرتکب نوجوانوں کے اس طرز عمل کو کھلم کھلا یا ڈھکے چھپے الفاظ میں سراہا ہے ۔ شری رام سینا کے سربراہ پرمود متھالک نے اسے ایک احسن اور قابل تقلید اقدام قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ پرمود متھالک وہ شخص ہے جس نے مالیگاؤں بم دھماکے میں ملوث ہندو سادھوی (عورت سادھو) پرگیا سنگھ ٹھاکر کو ہندو قوم کی عظیم عورت اور ہر ہندو کے لیے ایک مثال قراردیا تھا۔ پرمود متھالک نے پرگیا سنگھ ٹھاکر کا موازنہ جھانسی کی رانی اور بھگت سنگھ کے ساتھ کیا اور اسے عظیم انقلابی کہا تھا۔ مہاراشٹرا کے اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ نے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس کی چارج شیٹ میں سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کو اس دھماکے کا ذمہ دار قراردے دیا ہے۔


دوسری جانب اعتدال پسند حلقوں کا خیال ہے کہ یہ قدم شخصی آزادی کے خلاف ایک حملہ ہے۔ کس شخص نے کیا کرنا ہے اس کا تعین کرنے کا حق اسے ہے۔ کسی بھی شخص کو اپنی مرضی اور خیالات مسلط کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کوئی بھی شخص کچھ بھی کرنے میں آزاد ہے۔ اگر قانون کے خلاف کوئی کام ہوتا ہے تو اسے روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ کسی تنظیم یا اس کے ارکان کی۔ اس طرح کی کاروائیوں سے فساد پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔


شری رام سینا اور اس کے ارکان کے اس طرز عمل کو ‘ہندو طالبانائزیشن’ بھی کہا جارہا ہے۔ کرناٹک صوبے میں اس وقت انتہا پسند ہندو جماعت ‘بھارتیہ جنتا پارٹی’ کی حکومت ہے۔ اس حکومت کے زیرسایہ انتہاپسند ہندو تنظیمیں اپنے مذہبی ایجنڈے پر پوری قوت سے عمل کررہی ہیں۔ حکومتی مشینری اور ذرائع استعمال کر کے ہندو طالبان کھل کھیل رہے ہیں۔ یہ لوگ پورے ہندوستان کو سیکولر کی بجائے ہندو ملک بنانا چاہتے ہیں، یعنی ہندو مذہب کی تعلیمات کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمان، عیسائی ، سکھ، بدھ اور دیگر مذاہب کے لوگ اگر ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں ہندو طورطریقے اپنا کر رہنا ہوگا۔


ہندو طالبان عناصر کی کاروائیوں میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اڑیسہ، کرناٹک اور دیگر صوبوں میں عیسائیوں کو قتل کیا، ان کے چرچ جلائے اور انہیں ہندو بننے پر مجبور کیا۔ یہ ہندو طالبان ہی تھے جنہوں نے معروف مسلمان مصور فدا مقبول حسین کے خلاف ایک مہم شروع کی، جس کے نتیجے میں مصور کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی وہ ہندو طالبان ہیں جنہوں نے کانگریس حکومت کی طرف سے مسلمان حاجیوں کو دی جانے والی سبسڈی کے خلاف ایک ہنگامہ بپا کیا ہوا ہے۔ اور ماضی میں جائیں تو ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت، احمد آباد اور گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام، 1984 میں سکھوں کا قتل عام، ملک کے لیڈر گاندھی جی کا قتل اور دیگر تمام خونی اور سفاک واقعات کے پیچھے انتہاپسند ہندو تنظیمیں کارفرما ہیں۔ اس وقت ہندوستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہندوانتہاپسندی کا فروغ ہے۔چونکہ ہندوستان میں بہت سے مذاہب اور تمدن کے حامل لوگ بستے ہیں لہٰذا ہندوستان کی بقا اور اتحاد اس کے سیکولر طرزعمل سے ہی ممکن ہے۔ بڑھتی ہوئی ہندو انتہاپسندی اسے تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

Published in:  on March 6, 2009 at 8:03 am Leave a Comment

گوگل ’انسانی غلطی‘ کا شکار

سنیچر کو انٹرنیٹ کا معروف سرچ انجن گوگل غیر معمولی طور پر کسی تکنیکی خرابی کا شکار ہوگیا اور سرچ کرنے والے افراد گوگل کے ذریعے اپنی مطلوبہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔


سنیچر کو دن کے کچھ دورانیے میں جتنے افراد نے بھی بذریعہ گوگل کچھ تلاش کرنے کی کوشش کی، انہیں ایک ہی جواب ملا: یہ ویب سائیٹ آپ کے کمپیوٹر کو نقصان پہنچا سکتی ہے‘۔

جن افراد نے اس تنبہہ کے باوجود بھی اپنی مطلوبہ ویب سائیٹ پر کلک کیا، انہیں جواب ملا کہ ’کسی دوسری ویب سائیٹ کا انتخاب کریں‘۔

گوگل ادارے کا کہنا ہے کہ یہ خرابی ایک ’انسانی غلطی‘ کے باعث پیدا ہوئی اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو 40 منٹ تک اس صورتحال کا سامنا رہا۔

گوگل کی ایک اعلٰی عہدیدار مریسا میئر کا کہنا ہے کہ ’یہ خالصتاً کسی فرد کی تکنیکی غلطی تھی‘۔

گوگل کی سرچ ’سٹاپ بیڈ ویئر‘ نامی ویب سائیٹ کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے جس کا کام یہ ہے کہ وہ نقصاندہ یا وائرس پھیلانے والی ویب سائیٹس کے بارے میں استعمال کرنے والوں متنبہہ کرے۔

اس کے بعد مشتبہ ویب سائٹس کی لسٹ گوگل کو فراہم کی جاتی ہے جس کی مدد سے وہ اپنی سرچ لسٹ ترتیب دیتا ہے۔

سنیچر کو جب گوگل اپنی سرچ لسٹ ترتیب دے رہا تھا تو غلطی سے تمام ویب سائٹس کو ’خِطرناک ویب سائٹس‘ قرار دے دیا گیا جس سے گوگل استعمال کرنے والوں کو مشکلات پیش آئیں۔

مریسا میئر کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ مستقبل میں ایسا نہ ہو‘۔
سنیچر کو انٹرنیٹ کا معروف سرچ انجن گوگل غیر معمولی طور پر کسی تکنیکی خرابی کا شکار ہوگیا اور سرچ کرنے والے افراد گوگل کے ذریعے اپنی مطلوبہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

سنیچر کو دن کے کچھ دورانیے میں جتنے افراد نے بھی بذریعہ گوگل کچھ تلاش کرنے کی کوشش کی، انہیں ایک ہی جواب ملا: یہ ویب سائیٹ آپ کے کمپیوٹر کو نقصان پہنچا سکتی ہے‘۔

جن افراد نے اس تنبہہ کے باوجود بھی اپنی مطلوبہ ویب سائیٹ پر کلک کیا، انہیں جواب ملا کہ ’کسی دوسری ویب سائیٹ کا انتخاب کریں‘۔

گوگل ادارے کا کہنا ہے کہ یہ خرابی ایک ’انسانی غلطی‘ کے باعث پیدا ہوئی اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کو 40 منٹ تک اس صورتحال کا سامنا رہا۔

گوگل کی ایک اعلٰی عہدیدار مریسا میئر کا کہنا ہے کہ ’یہ خالصتاً کسی فرد کی تکنیکی غلطی تھی‘۔

گوگل کی سرچ ’سٹاپ بیڈ ویئر‘ نامی ویب سائیٹ کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے جس کا کام یہ ہے کہ وہ نقصاندہ یا وائرس پھیلانے والی ویب سائیٹس کے بارے میں استعمال کرنے والوں متنبہہ کرے۔

اس کے بعد مشتبہ ویب سائٹس کی لسٹ گوگل کو فراہم کی جاتی ہے جس کی مدد سے وہ اپنی سرچ لسٹ ترتیب دیتا ہے۔

سنیچر کو جب گوگل اپنی سرچ لسٹ ترتیب دے رہا تھا تو غلطی سے تمام ویب سائٹس کو ’خِطرناک ویب سائٹس‘ قرار دے دیا گیا جس سے گوگل استعمال کرنے والوں کو مشکلات پیش آئیں۔

مریسا میئر کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ مستقبل میں ایسا نہ ہو‘۔

Published in:  on at 7:48 am Leave a Comment