دنیا کا سب سے پتلا لیپ ٹاپ

اپیل کمپیوٹر کے مالک سٹیو جابز نے دنیا کا سب سے پتلا لیپ ٹاپ،’میک بک ایئر‘ متعارف کروایا ہے۔
اس لیپ ٹاپ کی موٹائی قریباً دو سینٹی میٹر ہے اور اس کی نقاب کشائی سان فرانسسکو میں ہوئی۔ یہ لیپ ٹاپ ایک لفافے میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔
سٹیو جابز کا کہنا ہے کہ یہ انجینئرنگ کا حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ایپل نے چِپ بنانے والی کمپنی اِنٹیل کے ساتھ مل کر اس لیپ ٹاپ کے لیے خصوصی طور پر مختصر پراسیسر تیار کروایا ہے۔
کمپیوٹر کا حجم کم رکھنے کے لیے اس میں سی ڈی یا ڈی وی ڈی ڈرائیو نہیں لگائی گئی۔ یہ مکمل طور ایک وائرلیس مشین ہے اور یہ تقریباً دو ہفتے میں بازار میں آجائے گا۔ برطانیہ میں اس کی قیمت بارہ سو پونڈ جبکہ امریکہ میں اٹھارہ سو ڈالر ہوگی۔
اس کمپیوٹر میں میں اسّی گیگا بائٹ کی ہارڈ ڈسک لگے گی جبکہ تقریباً ایک ہزار ڈالر خرچ کرکے چونسٹھ گیگا بائٹ کی سالڈ سٹیٹ ہارڈ ڈرائیو بھی لگائی جا سکے گی۔
یہ لیپ ٹاپ کمپیوٹر مارکیٹ میں سونی، ڈیل اور ایسوس جیسی کمپنیوں کی پورٹیبل مشینوں کا مقابلہ کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔ یہ تمام کمپنیاں پہلے ہی پتلے اور زیادہ موبائل لیپ ٹاپ بنا رہی ہیں جنہیں ’سب نوٹ بک‘ کا نام دیا گیا ہے۔
دور تلک صحرا دیکھا
جہاں تک دیکھا ، دور تلک صحرا دیکھا
میں نے جیون ندیا میں، ہر اک بےوفا دیکھا
کب ختم ہوں گے یہ ظلم و ستم کہتے ہوئے
آج میں نے اک دل جلا دیکھا
جو کبھی کسی کا آشنا تھا
اب اسے میں نے نا آشنا دیکھا
محبت زندگی ہے، محبت ہے عبادت
اک دیوار پہ یہ حرف غلط، لکھا دیکھا
حسن والے کر دیتے ہیں، در سے دربدر
اک دیوانے کو دیتے ہوئے صدا دیکھا
ہمیں تم سے محبت ہے، یھ کہہ کر
ہر حسیں کو، دیتے ہوئے دغا دیکھا
کسی کی راتوں کا چین و سرور لوٹ کر
حسینوں کو محلوں میں سوتے سدا دیکھا
گر توں نے کرلی محبت اے ناصر، تو جان لے
خزاں میں نہ کبھی کسی نے، پھول کھلا دیکھا
آج میں نے اک دل جلا دیکھا
اب اسے میں نے نا آشنا دیکھا
اک دیوار پہ یہ حرف غلط، لکھا دیکھا
اک دیوانے کو دیتے ہوئے صدا دیکھا
ہر حسیں کو، دیتے ہوئے دغا دیکھا
حسینوں کو محلوں میں سوتے سدا دیکھا
خزاں میں نہ کبھی کسی نے، پھول کھلا دیکھا
حسین سا چہرا
میری آنکھوں میں جو اک حسین سا چہرا ہے
اس پہ گیسوے دراز کا پہرا ہے
کل شب رخ انور سے نقاب جو ہٹایا
تمام رات چاند اسے دیکھنے کو ٹھہرا ہے
ہم شیش محل والوں سے کیونکر محبت کر بیتھے
یہ جانتے ہوئے بھی، کہ قسمت میں چادر صحرا ہے
قسمت نے ہمیں، تیری جھولی میں ڈال دیا ناصر
چلو اب دیکھتے ہیں، کیا سلوک تیرا ہے
تمام رات چاند اسے دیکھنے کو ٹھہرا ہے
یہ جانتے ہوئے بھی، کہ قسمت میں چادر صحرا ہے
چلو اب دیکھتے ہیں، کیا سلوک تیرا ہے
شکر ایک مکالمہ
دلاور = ارے بھئی بابر صاحب بڑے خوش نظر آرہے ہیں؟
عبداللہ = ہاں الحمد ﷲ میں بہت خوش ہوں اللہ کا بڑا کرم ہے
دلاور = کیوں کیا کوئی لاٹری نکل آئی ہے؟
عبداللہ = نہیں میری کوئی لاٹری نکلی ہے مگر الحمد ﷲ کا بڑا کرم ہے۔
دلاور = اچھا تو کیا آپ کی ترقی ہوگئی ہے۔
عبداللہ = نہیں میری ترقی تو نہیں ہوئی ہے۔لیکن الحمد للہ کی بڑی نوازش ہے اس نے بہت نوازا ہے
دلاور = اچھا تو پھر ضرور آپ کو کہیں دوسری جگہ اچھی اور زیادہ تنخواہ کی نوکری مل گئی ہے؟
عبداللہ = نہیں مجھے کوئی دوسری نوکری بھی نہیں ملی ہے لیکن میں پھر بھی بہت خوش ہوں۔ الحمد للہ
دلاور = اچھا تو آپ کی خوشی کا سبب آپ کے امتحان میں کامیابی ہوگی
عبداللہ = نہیں میری خوشی کا سبب امتحان میں کامیابی بھی نہیں۔
دلاور = بھائی میں نے ہار مان لی آپ ہی بتادیں کہ آپ کی بے انتہا خوشی کا سبب کیا ہے جو آپ بار بار اللہ کا
شکر ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں تو اس مہنگائی نے مار کر ادھ موا کردیا ہے۔ بڑی مشکل سے گزار ہوتا ہے پھر بال بچوں کی تعلیم کا خرچہ، کل والد صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی تھی ان کو دوائی دلائی تھی پورے ایک سو پچاس روپے کی دوائی آئی تھی، ان سب چیزوں نے تو ہماری زندگی اجیرن کردی ہے، ہماری زندگی سے
خوشیوں کے لمحات رخصت ہوگئے ہیں اور آپ بہت خوش اور مطمئین نظر آرہے ہیں میری تو عقل کام نہیں کر رہی ہی آپ خود ہی بتا دیں
عبد اللہ = دیکھو بھائی یہ سب چیزیں تو زندگی کا حصہ ہیں اور زندگی میں دکھ بھی ہوتے ہیں اور سکھ بھی
ہوتے ہیں لیکن ہم لوگ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں،آپ نے جو مسائل بتائے ہیں یہ سب مسائل تو آج کل ہر فرد کے ساتھ ہیں اور میں بھی ان تمام مسائل کا سامنا کرتا ہوں، ہمیں ہر حال میں اللہ رب العالمین کا شکر ادا کرنے چاہیے کیوں کہ وہ رب ہے اور ہم اس کے بندے ہیں، اور بندے کا مطلب ہوتا ہے غلام،ایک غلام کی کیا مجال جو وہ اپنے آقا سے شکواہ کرے۔
میرے بھائی آپ نے مجھ سے پوچھا ہے کہ میں کیوں خوش ہوں اور کیوں بار بار اللہ کا شکر ادا کر رہا ہوں
تو سنو، اللہ نے مجھے ہر قسم کی بیماری سے محفوظ رکھا ہوا ہے ورنہ اس وقت ہزاروں لوگ ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں اللہ کا بڑا کرم ہے کہ میں ان میں شامل نہیں ہوں۔آج صبح جب میں گھر سے نکلا تو میں نے ایک اندھا فقیر دیکھا اور میں اللہ کا شکر ادا کیا اللہ نے مجھے ایک مکمل جسم دیا اور میرے جسمانی اعضاء بالکل ٹھیک ہیں۔ کل شہر میں ایک بم دھماکہ ہوا اوراس میں پچھتر افراد ہلاک ہوگئے لیکن الحمد للہ میں ان پچھتر میں شامل نہیں ہوں ملک میں اسوقت لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں اللہ کا شکر ہے کہ میں ان میں شامل نہیں ہوں،کل ہی کی ایک خبر اور سناتا ہوں کہ ہمارے بابر والی گلی میں دو بھائیوں کا جھگڑا ہو گیا اور چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو قتل کردیا اللہ کا بڑا کرم ہے کہ میرا چھوٹا بھائی میری بہت عزت کرتا ہے۔ ہزاروں لوگ ماں باپ کے سائے سے محروم ہیں مگر اللہ نے ان کا سایہ میرے سر پر سلامت رکھا ہے۔
اس وقت ہمارے شہر میں لاکھوں لوگ فاقے کرتے ہیں اور خالی پیٹ سو جاتے ہیں لیکن میرے رب نے مجھے اس سے محفوظ رکھا ہے اور میں پورے تین وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھاتا ہوں۔ کیا یہ بات ایسی نہیں ہے کہ میں اپنے رب کا شکر ادا کروں
دلاور =ہاں آپ نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ اللہ نے ہم پر بڑا کرم کیا ہے
عبداللہ = میں جب یہ دیکھتا ہوں کہ افغانستان،عراق،فلسطین،اور آزاد کشمیر کفار،یہود و ہنود کے قبضے میں ہیں اور ارض فلسطین میں تو اس دفعہ بیت المقدس میں یہودیوں نے مسلمانوں کو نماز عید بھی ادا کرنے نہیں دی اور میرا وطن ان سے محفوظ ہے تو بے اختیار میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں اس نے مجھے ایک آزاد وطن میں پیدا کیا،جہاں میں اپنی مرضی سے اپنے دین پر عمل کرسکتا ہوں۔
دلاور =عبداللہ بھائی آپ نے مجھے یہ بہت اچھی بات سمجھا دی ہے کہ واقعی ہم اپنے آزاد ملک میں آزاد فضائوں میں سانس لے رہے ہیں
عبداللہ = دیکھو بھائی آج کل ہم لوگ نا شکرا پن کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس گاڑی، بنگلہ، بینک بیلنس،اور سوسائٹی میں ایک اونچا مقام ہو تو ہی اللہ کا شکر ادا کرنا چایئے جب کہ اللہ کا شکر تو ہر حال میں واجب ہے چاہے وہ جس حال میں بھی رکھے
دلاور=ہاں ہمیں کہنا چاہیے کہ مسائل تو ہیں پھر بھی اللہ کا چکر ہے کہ اس نے ہمیں اچھا رکھا ہوا ہے
عبداللہ = نہیں میرے بھائی یہ جو لفظ ہے نا پھر بھی اس کا مطلب ہے کہ ہم خوش تو نہیں ہیں لیکن پھر بھی اللہ کا شکر ہے، ایسا نہیں کہنا چاہیے۔ صرف اللہ کا شکر ادا کرنا چایئے۔
دلاور = سوری میں اب ایسا ہی کروں گا اور چاہے میرا رب مجھے جس حال میں رکھے میں اس کا شکر ادا کروں گا
عبداللہ = بالکل ٹھیک لیکن ایک بات اور اللہ کا شکر صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی کرنا چاہیے اور جب ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے رب کا شکر ادا کر رہے ہیں،اور عمل سے شکر ادا کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم پنج وقتہ نماز باقاعدگی سے ادا کریں۔ یہ دراصل اپنے عمل سے اللہ کا شکر ادا کرنا ہوگا
دلاور = عبد اللہ بھائی میں آپ کی باتوں سے متفق ہوں اور میں ایسا ہی کرونگا
عبداللہ = تو پھر آیئے نمازِ مغرب کا وقت ہوگیا ہے اور مسجد بھی سامنے ہے
دلاور = چلیں
دونوں مسجد کی طرف جاتے ہیں اور فضاؤں میں مؤذن کی صدا گونج رہی ہے اللہ اکبر اللہ اکبر
شکر ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں تو اس مہنگائی نے مار کر ادھ موا کردیا ہے۔ بڑی مشکل سے گزار ہوتا ہے پھر بال بچوں کی تعلیم کا خرچہ، کل والد صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی تھی ان کو دوائی دلائی تھی پورے ایک سو پچاس روپے کی دوائی آئی تھی، ان سب چیزوں نے تو ہماری زندگی اجیرن کردی ہے، ہماری زندگی سے
خوشیوں کے لمحات رخصت ہوگئے ہیں اور آپ بہت خوش اور مطمئین نظر آرہے ہیں میری تو عقل کام نہیں کر رہی ہی آپ خود ہی بتا دیں
ہوتے ہیں لیکن ہم لوگ تصویر کا ایک رخ دیکھتے ہیں،آپ نے جو مسائل بتائے ہیں یہ سب مسائل تو آج کل ہر فرد کے ساتھ ہیں اور میں بھی ان تمام مسائل کا سامنا کرتا ہوں، ہمیں ہر حال میں اللہ رب العالمین کا شکر ادا کرنے چاہیے کیوں کہ وہ رب ہے اور ہم اس کے بندے ہیں، اور بندے کا مطلب ہوتا ہے غلام،ایک غلام کی کیا مجال جو وہ اپنے آقا سے شکواہ کرے۔
تو سنو، اللہ نے مجھے ہر قسم کی بیماری سے محفوظ رکھا ہوا ہے ورنہ اس وقت ہزاروں لوگ ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں اللہ کا بڑا کرم ہے کہ میں ان میں شامل نہیں ہوں۔آج صبح جب میں گھر سے نکلا تو میں نے ایک اندھا فقیر دیکھا اور میں اللہ کا شکر ادا کیا اللہ نے مجھے ایک مکمل جسم دیا اور میرے جسمانی اعضاء بالکل ٹھیک ہیں۔ کل شہر میں ایک بم دھماکہ ہوا اوراس میں پچھتر افراد ہلاک ہوگئے لیکن الحمد للہ میں ان پچھتر میں شامل نہیں ہوں ملک میں اسوقت لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں اللہ کا شکر ہے کہ میں ان میں شامل نہیں ہوں،کل ہی کی ایک خبر اور سناتا ہوں کہ ہمارے بابر والی گلی میں دو بھائیوں کا جھگڑا ہو گیا اور چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو قتل کردیا اللہ کا بڑا کرم ہے کہ میرا چھوٹا بھائی میری بہت عزت کرتا ہے۔ ہزاروں لوگ ماں باپ کے سائے سے محروم ہیں مگر اللہ نے ان کا سایہ میرے سر پر سلامت رکھا ہے۔
اس وقت ہمارے شہر میں لاکھوں لوگ فاقے کرتے ہیں اور خالی پیٹ سو جاتے ہیں لیکن میرے رب نے مجھے اس سے محفوظ رکھا ہے اور میں پورے تین وقت کا کھانا پیٹ بھر کر کھاتا ہوں۔ کیا یہ بات ایسی نہیں ہے کہ میں اپنے رب کا شکر ادا کروں
عبداللہ = میں جب یہ دیکھتا ہوں کہ افغانستان،عراق،فلسطین،اور آزاد کشمیر کفار،یہود و ہنود کے قبضے میں ہیں اور ارض فلسطین میں تو اس دفعہ بیت المقدس میں یہودیوں نے مسلمانوں کو نماز عید بھی ادا کرنے نہیں دی اور میرا وطن ان سے محفوظ ہے تو بے اختیار میں اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں اس نے مجھے ایک آزاد وطن میں پیدا کیا،جہاں میں اپنی مرضی سے اپنے دین پر عمل کرسکتا ہوں۔
عبداللہ = دیکھو بھائی آج کل ہم لوگ نا شکرا پن کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس گاڑی، بنگلہ، بینک بیلنس،اور سوسائٹی میں ایک اونچا مقام ہو تو ہی اللہ کا شکر ادا کرنا چایئے جب کہ اللہ کا شکر تو ہر حال میں واجب ہے چاہے وہ جس حال میں بھی رکھے
دلاور=ہاں ہمیں کہنا چاہیے کہ مسائل تو ہیں پھر بھی اللہ کا چکر ہے کہ اس نے ہمیں اچھا رکھا ہوا ہے
عبداللہ = نہیں میرے بھائی یہ جو لفظ ہے نا پھر بھی اس کا مطلب ہے کہ ہم خوش تو نہیں ہیں لیکن پھر بھی اللہ کا شکر ہے، ایسا نہیں کہنا چاہیے۔ صرف اللہ کا شکر ادا کرنا چایئے۔
دلاور = سوری میں اب ایسا ہی کروں گا اور چاہے میرا رب مجھے جس حال میں رکھے میں اس کا شکر ادا کروں گا
عبداللہ = بالکل ٹھیک لیکن ایک بات اور اللہ کا شکر صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی کرنا چاہیے اور جب ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اپنے رب کا شکر ادا کر رہے ہیں،اور عمل سے شکر ادا کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم پنج وقتہ نماز باقاعدگی سے ادا کریں۔ یہ دراصل اپنے عمل سے اللہ کا شکر ادا کرنا ہوگا
دلاور = عبد اللہ بھائی میں آپ کی باتوں سے متفق ہوں اور میں ایسا ہی کرونگا
عبداللہ = تو پھر آیئے نمازِ مغرب کا وقت ہوگیا ہے اور مسجد بھی سامنے ہے
دلاور = چلیں
دونوں مسجد کی طرف جاتے ہیں اور فضاؤں میں مؤذن کی صدا گونج رہی ہے اللہ اکبر اللہ اکبر
taqdeer hamari hai
میری نظر میں دیکھو تصویر ہے تمہاری
اور میرے دل میں ہر پل یادیں بسی تمہاریجینے کا حوصلہ بھی اپنے ساتھ لے گیا
ہجر عزیزاں چھین کے فطرت سے ہماری
اک شہرمیں رہتے ہوئے تم سے نہ مل سکے
مجبوری ہے ہماری کہ تقدیر ہے تمہاری
ہم کھو کہ تمہیں آج بھی زندہ ہیں اس لئے
دل میں جو بس رہی ہیں یادیں ابھی تمہاری
یہ خود فراموشی ہے فطرت میں ہماری
دیوانگی کا عالم چاہت میں تمہاری
تم آؤ یا نہ آؤ ہم منتظر رہیں گے
تم کو لے آئیگی اک دن صدا ہماری
ہم کو خود سے دوربہت دور کرکے دیکھ لو
ہم تم کو بھول جائیں یہ بھول ہے تمہاری
مجبوری ہے ہماری کہ تقدیر ہے تمہاری
دل میں جو بس رہی ہیں یادیں ابھی تمہاری
دیوانگی کا عالم چاہت میں تمہاری
تم کو لے آئیگی اک دن صدا ہماری
ہم تم کو بھول جائیں یہ بھول ہے تمہاری

